قفس ہے باغ میں، خالی نہیں ہے
اور اک صیاد ہے ، مالی نہیں ہے
ہمیں اب سوچنا کچھ اور ہوگا
کہانی اس قدر خالی نہیں ہے
سمجھتا ہوں میں لفظوں کا تقدس
گھٹا ہے ، زلف سی کالی نہیں ہے
کسی نے سبز رنگولی ہے کھینچی
چمن میں کوئی ہریالی نہیں ہے
اگر میں کھو گیا تو کھو ہی جاؤں
مجھے وہ ڈھونڈنے والی نہیں ہے
پڑی ہے بند اک پلکوں کی کھڑکی
سنہرے خواب کی جالی نہیں ہے
غزل میں درد بھر دیتا ہے شؔیدا
کسی کی بات کھنگالی نہیں ہے

0
1