خیال و تجسس کی دنیا مٹا دوں
سبھی حالتِ ہوش اپنی گنوا دوں
ارادہ کیا ہے مرے دل نے ہر بار
حکایت تمہیں دل کی آ کر سنا دوں
قفس کھولنے سے ہوں عاجز وگرنہ
پرندے مرے شوق کے سب اڑا دوں
ہرے رنگ سے بھر دوں دنیا تمہاری
نئے پھول آنگن میں تیرے کھلا دوں
میں کر دوں حنا کو مقدر تمہارا
تمہاری ہتھیلی پہ خود کو سجا دوں
ستاروں کی بارات لاؤں ترے گھر
اندھیروں کی ہر شام کو جگمگا دوں
مرے دل کو تیری کمی کھل رہی ہے
اجازت ہو تو کیا یہ دوری گھٹا دوں
تمہیں لکھ دیا صورتِ نظم میں نے
میں شاعر ہوں تم کو کیا اور وفا دوں
رقیہ تمہیں دیکھ کے مسکراتا
مرے دل نے چاہا تمہیں اور دعا دوں

0
5