| غزل — ڈاکٹر مبشر کنولؔ مہسلائی |
| نفرتوں کے گھنے جنگل میں بھی گلشن رکھا |
| ہم نے ہر حال میں ہنستا ہوا آنگن رکھا |
| ایک جگنو نہ جھکا سامنے ظلمت کے کبھی |
| جس نے ہر دور میں اندھیاروں کو روشن رکھا |
| زورِ باطل سے الجھنے کا ہنر جان لیا |
| ہم نے ایمان کا تھامے ہوئے دامن رکھا |
| باغ کی آبرو گلشن کی امانت سمجھی |
| گل کو چاہا، نہ کبھی خار کو دشمن رکھا |
| دل شکستہ تھا مگر لب پہ تبسم ہی رہا |
| ہم نے ہر زخم پہ خاموشی کا مدفن رکھا |
| ربِّ واحد کی اطاعت میں جھکایا سر کو |
| ہم نے توحید کو ہر سانس کا مسکن رکھا |
| نفرتوں میں بھی جلاتے رہے الفت کے چراغ |
| آپ ﷺ نے دل میں سدا پیار کا خرمن رکھا |
| اے کنولؔ اہلِ سخن کی یہی پہچان رہی |
| حق کہا، سادہ کہا، شعر کو درپن رکھا |
معلومات