| زمانے نے گھاؤ لگائے ہیں کیا کیا |
| ستم ہم سفر نے بھی ڈھائے ہیں کیا کیا |
| فقط پھول الفت کے بانٹے ہیں میں نے |
| مگر خار بدلے میں پائے ہیں کیا کیا |
| کٹی عمر راہوں میں، اب کیا بتاؤں |
| کہ ہجرت کے صدمے اٹھائے ہیں کیا کیا |
| گلی میں رقیبوں کی کل تم کو دیکھا |
| کہوں کیا، گماں دل میں آئے ہیں کیا کیا |
| وفا، زندگی، دل، محبت، دعائیں |
| ترے واسطے دیکھ، لائے ہیں کیا کیا |
| عادل ابن ریاض |
معلومات