اظہار ہوں کسی کے حسنِ خیال کا
یا عکس ہوں کسی کے جاہ و جلال کا
میں کون ہوں کہاں سے آیا ہوں اس جگہ
کیوں میں ہی مستحق تھا ایسے وبال کا
عادت سی ہوگئی ہے بے سود مجھ کو کیوں
رکھنا حساب روز و شب،   ماہ و سال کا
ہر بات ان کی جزوِ ایمان ہو گئی
عادی نہیں ہوں اس میں قیل اور قال کا
جب حسن ہم سخن ہو تو بحث کس لئے
قائل ہوں اس قدر میں حسنِ مقال کا
وہ دور جا کے دل میں کچھ اور بس گئے
قصہ ہوا تمام اب ہجر و وصال کا
پت جھڑ میں بات کیجئے فصلِ بہار کی
اور دیکھئے کرشمہ ذوقِ جمال کا

0
2