| بے بسوں کو آزمانا یہ کہاں انصاف ہے |
| غم کے ماروں کو ستانا یہ کہاں انصاف ہے |
| بے سبب اڑتے پرندوں کو پھنسانا جال میں |
| پر کتر کر پھر اڑانا یہ کہاں انصاف ہے |
| ظالموں کی جوتیاں سر پر سجا کے شوق سے |
| بے بسی کے گیت گانا یہ کہاں انصاف ہے |
| ایرے غیرے کو عمامہ اور داڑھی دیکھ کر |
| مولوی کہہ کر بلانا یہ کہاں انصاف ہے |
| من چلے پاگل کو عاشق کا لقب دیکر کے یوں |
| عشق پر دھبے لگانا یہ کہاں انصاف ہے |
| عشق سے واقف نہیں پر عاشقوں کی ذات پر |
| انگلیاں ایسے اٹھانا یہ کہاں انصاف ہے |
| جانتے ہو میری حالت مجھ سے بہتر آپ تو |
| ایسے طیب روٹھ جانا یہ کہاں انصاف ہے |
| محمد طیب برگچھیاوی |
معلومات