میں بے خود مست بنتا جا رہا ہوں
نگاہوں سے پلایا جا رہا ہوں
شرابِ پاک کے پی کر میں دھارے
"اسی رستے پہ بڑھتا جا رہا ہوں"
مری مستی سمجھ آتی نہیں ہے
ہزاروں بار سوچا جا رہا ہوں
میں رندِ مے نہیں رندِ نظر ہوں
نظر ان سے ملاتا جا رہا ہوں
میں ہوں پابندِ پیمانِ محبت
وفاؤں پر سراہا جا رہا ہوں
ہوں مدہوشی میں ان سے عشق کرتا
میں گہرا اور اترتا جا رہا ہوں
ذکؔی محبوب کی نظروں میں چڑھنے
جہاں بھر میں گِرایا جا رہا ہوں

0
2