| خرد کی قید سے ہم لامکاں میں اترے ہیں |
| بپاسِ بندگی، ہم اس جہاں میں اترے ہیں |
| سنائی دیتی ہے چاہت کی اک صدا ہر سو |
| مکینِ دل کے لیے ہم فغاں میں اترے ہیں |
| حقیقتوں کی حدوں سے گزر گئے ہیں ہم |
| یقین و ہوش کو بھلا کر، گماں میں اترے ہیں |
| لیے خیالِ زمرد کا سلسلہ دل میں |
| کسی جنوں کے نئے بے کراں میں اترے ہیں |
| چلے تھے ہم اسے پانے کی جستجو لے کر |
| کہو اے شاد! کہ ہم کس نشاں میں اترے ہیں |
معلومات