چاہا تھا جسکو ٹوٹ کے وہ شخص دوستو
بیٹھا ہے مجھ سے روٹھ کے وہ شخص دوستو
جس کے لبوں پہ قہقہے رہتے تھے محو رقص
رویا ہے آج پھوٹ کے وہ شخص دوستو

0
4