| دستور یار کی بستی کے نرالے دیکھے |
| اہلِ وفا جہاں زنداں کے حوالے دیکھے |
| سب رحم کی اپیلیں ہم نے بے سود دیکھیں |
| منصف ہی سارے اس کے گُن گانے والے دیکھے |
| رشتوں کی کیمیا کا یہ فارمولا دیکھا |
| خوں جو سفید دیکھے تو دل ہیں کالے دیکھے |
| وقتِ زوال دیکھا کوئی نہ ساتھ اپنے |
| اِن آنکھوں نے اندھیروں جیسے اجالے دیکھے |
| شاہوں نے کب پیادوں کو درد سہتے دیکھا؟ |
| رستوں نے کب بھٹکتے پیروں کے چھالے دیکھے؟ |
| اِس عشق میں نہ دیکھی آسودہ حالی ہم نے |
| دیکھے ہیں جب بھی عاشق کو جاں کے لالے دیکھے |
معلومات