| زرا دیکھۓ وہاں جھانک کر ہو رہا گلی میں ہے شور کیا |
| جو نہیں کوئی بھی ادھر تو ذہن کا ہے یہ میرے فطور کیا |
| تجھے سنگ دل جو کہیں اگر، تجھے بے وفا کا خطاب دیں |
| تجھے اعتراض ہے جو اگر ، تو بتا تجھے کہیں اور کیا |
| ترے سنگ در پہ رکھا ہے سر مرے حال پر زرا غور کر |
| کسے ہوش ہے کہ ہے ہوش کیا نہیں کچھ خبر ہے شعور کیا |
| تجھے چاہنا ہے خطا اگر تو سزا دے مجھ کو تو قید کر |
| ہیں قبول سب ترے فیصلے کہ نہ پوچھیں گے ہے قصور کیا |
| تجھے کیسے خود سے جدا کروں ترا عکس ہے مری روح میں |
| ترے ہونے سے یہ وجود ہے کروں ہونے پہ میں غرور کیا |
| مری چشم نم ہوئی سوز گر ترا ہر ستم ہوا کار گر |
| کیا یوں ہی چلے گا یہ سلسلہ تو نہ بدلے گا کسی طور کیا |
| جو نہ لب سے لب بھی ہلائیں گے نہ زباں سے کچھ بھی کہیں گے تو |
| بھلا کیسے ہم کو پتا چلے کہ چھپا ہے دل میں حضور کیا |
معلومات