عکسِ جاناں کھینچ کر ہم کو گلستاں لے چلا
بن کے مشعل راہ کی وہ ضو افشاں لے چلا
ہو گیا ہے کام دل کا پھر بھی قاتل خوش نہیں
طعنۂ جاں دے کے وہ کر کے ہراساں لے چلا
یاس کا پہرہ ہے اب تو وصل کا امکاں نہیں
لے چلا ان کو جو اس کے تھے نہ خواہاں لے چلا
سو بہانے کر کے ہم تھے تیغِ ابرو سے بچے
اب اڑا کر جان میری تیرِ مژگاں لے چلا
نالہ و فریاد سن کر بلبلِ ناشاد کا
ہنس دیے ہیں کون خود کو واں سے خنداں لے چلا
دشمنِ جاں دل ہی ٹھہرا غیر سے کیسا گلہ
کھینچ کر جو پھر سے ہم کو کوئے جاناں لے چلا
خوفِ رسوائی تجھے کیوں حضرتِ دل اب نہیں
تار تار اب کرنے کو کیوں اپنا داماں لے چلا ؟
عاشقی افتادگی تو لازم و ملزوم ہیں
کون ہے اس دشت سے جو خود کو فرحاں لے چلا ؟
اے جلالؔ اب قیدِ پیچِ زلف ہو کے کیا ملا ؟
غنچۂ گلزار دل کر کے بیاباں لے چلا

0
1