نظروں میں سب کے گھومتا منظر
پُر کشش دل کو کھینچتا منظر
سیر ساحل کنارے کی کرنا
شام کا دھیان کھینچتا منظر
بھول جانا بہت کٹھن ہوگا
وہ خیالوں میں ناچتا منظر
ہاتھ میں ہاتھ ہمسفر کا ہو
روح کو جیسے چیرتا منظر
ہو نظر سنگِ میل پر اپنی
پھیلے من میں وہ جھانکتا منظر
پیار کے نغمے بھی زباں پر ہوں
تب رہے امن چھیڑتا منظر
باہمی جوڑ جب رہے ناصؔر
خوشیوں کو پھر ہو بانٹتا منظر

0
32