میری روشنی ہے تو، میری چاندنی ہے تو
دھوپ میں گھنا سایا، نرم تازگی ہے تو
بے قرار لمحوں میں ، بھیگی بھیگی راتوں میں
میری ہر خوشی میں بھی نرم سی خوشی ہے تو
چاہتوں کے صحرا میں بوند بوند برسا ہوں
میری پیاس کا موسم، تشنہ آگہی ہے تو
ہر خوشی سے بڑھ کر ہے، ہر الم سے بڑھ کر ہے
تلخیوں کے راتوں میں صبح کی گھڑی ہے تو
پیار کی مسافت میں، راحتوں کا ساماں ہے
زخم زخم راہوں میں، میری بندگی ہے تو
چاندنی بھری راتیں، تیری روشنی جیسے
میرے دل کے آنگن میں، نرم چاندنی ہے تو
دھوپ کی تمازت میں، نرم چھاؤں سی ٹھنڈک
میری بے بسی میں بھی، ایک دل لگی ہے تو
ہجر کی مسافت میں، وصل کا ستارہ ہو
دشتِ غم کی راہوں میں چاندنی بنی ہے تو

0
3