خواب میں بھی دیکھوں چہرہ آپ کا ہی درمیاں
وہ مکمل داستاں ہے میری یادوں میں نہاں
ہے تعاون تو ضروری تجربہ کاروں کا بھی
بار سہہ پائے مگر کیسے یہ بازؤ ناتواں
عزم کامل سے تنِ تنہا سفر کرتے رہیں
جانبِ منزل بڑھیں تو ہی بنینگے کارواں
ہاتھ کی ریکھا میں تو تقدیر رہتے ہی نہیں
کاوشیں کرنے سے ہو جائیں مقدر مہرباں
زندگی میں وقت کا پانسہ بدلتے رہتا ہے
رت بہاروں کی کبھی چلتی کبھی رہتی خزاں
تیرگی میں راستہ ملنا کٹھن رہتا بہت
علم کی گر روشنی حاصل ہو پھر چمکے جہاں
توشہ ناصؔر نیکی کی ترغیب دینے سے بڑھیں
داعی بھی تبلیغ سے پائیں حیاتِ جاوداں

0
32