| نہ ٹوٹے گا کبھی رشتہ ہمارا |
| بہت مضبوط ہے دھاگہ ہمارا |
| بچایا ہم نے دل کو ٹوٹنے سے |
| مگر کمزور تھا کاسہ ہمارا |
| ہماری بات پر وہ ہنس پڑا ہے |
| چھپا تھا آنکھ میں دریا ہمارا |
| نہ مانا جب ہمیں دنیا نے آخر |
| خدا نے خود کہا بندہ ہمارا |
| ہم اپنے حال سے واقف ہیں سانول |
| نہ پوچھو تم پسِ پردہ ہمارا |
| سانول مزاری |
معلومات