| دل میں چراغ جل اٹھے تیری صدا کے ساتھ ساتھ |
| آنکھ میں خواب کھل گئے رنگِ حیا کے ساتھ ساتھ |
| تجھ سے محبتیں ہوئیں اپنی انا کے ساتھ ساتھ |
| دل کی انا پگھل گئی تیری دعا کے ساتھ ساتھ |
| اس نے جو مسکرا دیا بات وہیں بدل گئی |
| دل سے گلے بھی مٹ گئے اس کی ادا کے ساتھ ساتھ |
| وقت نے یہ سکھا دیا جیت ہی سب نہیں یہاں |
| آدمی خود کو کھو گیا اپنی بقا کے ساتھ ساتھ |
| ضد بھی گئی غرور بھی عشق نے دل بدل دیا |
| خود سے بھی آشنا رہے تیری رضا کے ساتھ ساتھ |
| شاہدؔ ترے خیال سے دل کو قرار آ گیا |
| خود سے بھی پیار ہو گیا تیری وفا کے ساتھ ساتھ |
معلومات