اے سمندر کی لہرو ہمیں تم کہو
درد گہرائیوں کے بھی ہنس کر سہو
سر پٹک کر یوں ساحل پہ دم توڑ دو
راز جیسے سمندر کے سب کھول دو
شور کرتے ہوئے جب بھی آتی ہو تم
واپسی پر تو چپکے سے آہیں بھرو
یوں سمندر کے رازوں کی ہو تم امیں
پھر خیانت نہ ایسے کیا تم کرو
جو سواری کریں تم پہ خوش تم سے ہیں
جھاگ غصّے میں منہ پر نہ لایا کرو
دو گھڑی دیکھ کر تم کو خوش ہوتے ہیں
لے کے خطرہ، غضب میں نہ آیا کرو

0
100