نبھانے ہیں وعدے ہمیں جو وفا کے
مٹانے ہیں اب داغ سارے جفا کے
محبت تمہیں سے فقط کرتے ہیں ہم
نہیں ہے یقیں دیکھ لو آزما کے
صنم تم ہی تو ہو کہیں جس سے دکھڑا
"ہوا بوجھ ہلکا غمِ دل سنا کے"
نہ شکوہ شکایت لبوں پر بھی آئے
سہے زخم سارے جو مرہم لگا کے
کٹے کیسی فرقت کہاں کب ستمگر
جدائی کے دن پائے گویا سزا کے
رہی باتوں میں بھی شرافت جھلکتی
نمایاں تھے آنکھوں پہ پردے حیا کے
دعا لڑکی والے یہی دیتے ناصؔر
رہو خوش سدا گھر، پِیا کا بسا کے

0
27