اٹھ گیا جو دل میں ارمان، کیوں نہیں جاتا
ہو گیا ہوں کتنا حیران، کیوں نہیں جاتا
شوق و جستجو سے ہی انقلاب برپا ہو
روئیں گے وگرنہ نقصان کیوں نہیں جاتا
کاہلی برتنے سے برملا پکاریں گے
پایا علم کا جو فقدان، کیوں نہیں جاتا
باپ در ہے تو ماں کے پیروں کے تلے جنت
جان لے یہ ان کا احسان کیوں نہیں جاتا
جو عذاب یا آفت ڈھا رہی قیامت ہے
اصل کیا سبب ہے پہچان، کیوں نہیں جاتا
ایماں کے فروشی کی داستاں سنی ہوگی
روح میں بسا وہ خلجان، کیوں نہیں جاتا
ہر طرف ہے ناصؔر فاقہ کشی کا اک عالم
مفلسی کا چھایا بحران کیوں نہیں جاتا

0
34