بارہا کہہ کے غزل ہم سے سنائی نہ گئی
دل کی خاموشی مگر ہم سے چھُپائی نہ گئی
میں نے ہر شخص کو آئینہ سمجھ کر دیکھا
عکس دیکھا تو نظر خود سے ملائی نہ گئی
جس کو ڈھونڈا مرے اندر کہیں موجود تھا وہ
عمر بھر مجھ سے مگر بات بنائی نہ گئی
دل نے ہر زخم کو اک نامِ وفا دے تو دیا
درد کی آخری تفسیر سنائی نہ گئی
کتنی آنکھوں میں اُتر آیا میں دریا کی طرح
اپنی پلکوں کی مگر پیاس بجھائی نہ گئی
وہ جو اک حرفِ محبت تھا خزانے جیسا
عمر بھر ڈھونڈا مگر اُس کی جُدائی نہ گئی
روشنی گھر میں بہت تھی یہ الگ بات کہ پھر
اپنے اندر کی کوئی رات جگائی نہ گئی
یوں تو پتھر بھی رہے ہاتھ میں آئینے بھی
اپنے چہرے سے مگر گرد ہٹائی نہ گئی
طارِق اس عہدِ سخن میں یہی نقصان رہا
دل کی سچّائی نظر آئی دکھائی نہ گئی

0
9