کیا یہ ممکن نہیں؟؟
تم مجھے اس طرح سے نہ دیکھا کرو
میری آنکھوں میں ایسے نہ جھانکا کرو
کہ کہیں رازِ دل تم پہ ہو نہ عیاں
میرے جذبات آنکھیں نہ کر دیں بیاں
دل میں میرے بپا ہے جو طوفانِ عشق
قلب تیرا نہ کرنے لگے اُس کی مشق
غرق ہونے لگو ڈوب جانے لگو
حال دل مجھ کو اپنا سنانے لگو
میری صحبت نہ شاعر بنا دے تُجھے
شاعری تیری اپنا بنا لے مجھے
تم بھی لکھنے لگو حال دل میری جاں
رقم کرنے لگو اپنی ہی داستاں
ہم ملے تھے کہاں؟کون سی تھی گھڑی؟
بات کس طرح پھر اتنی آگے بڑھی
الغرض اپنے قصے کی تفصیل ہو
داستان محبّت کی تکمیل ہو
میرے محبوب یہ چاندنی رات ہے
چاند تاروں کی لے آیا بارات ہے
خوبصورت سماں ہے،قریب آؤ تم
ساز چھیڑو، کوئی گیت ہی گاؤ تم!
ایسا نغمہ کے سازندے حیران ہوں
اور کوئل بھی سن کر پریشان ہو
ڈھونڈھتے ہوں نشاں کون گانے لگا!!!!
کون محفل میں دل کو لبھانے لگا!!!
کہ فضائیں بھی دیوانی ہونے لگیں
اور ہوائیں بھی مستانی ہو کر چلیں
جوشِ اُلفت میں تُجھ سے لپٹ جاؤں میں
تیری بانہوں میں ایسے سمٹ جاؤں میں
پھر نہ کچھ ہوش ہو نہ زمانے کا ڈر
ساتھ کانٹے یُونہی زِندگی کا سفر
از قلم سحر

114