ہم اگر، ناکام ہیں تو، کام ہی اب، چھوڑ دیں؟
دل جو ٹوٹا، ہے ہمارا، سب کا دل ہی، توڑ دیں؟
یہ ہوائیں، جو اڑا کر، لے گئی ہیں، ہر خوشی
آ اے ہمدم، کیوں نہ ہم تم، رُخ ہوا کا، موڑ دیں؟

42