وہ جھولیاں بھر کر دیتے ہیں، کیا جود و کرم سرکار کے ہیں
احسان خدائی پر سارے سلطان سخی دلدار کے ہیں
یہ بابِ رسالت زینہ ہے مولا سے عنایت اس در پر
جو دھومیں مچیں دو جگ میں عُلیٰ، یہ ڈنکے اسی دربار کے ہیں
گر نامے کو اپنے دھونا ہے، کہ کارِ زیاں کا رونا ہے
دلدار کے در پر جاتے ہیں بڑے درجے اُس مختار کے ہیں
جو جود و کرم کی ہے بارش ہر آن گھٹائے رحمت سے
سرکار سے ہے، مختار سے ہے، بڑے احساں اس دلدار کے ہیں
انوار سے اس مختار کے سب، جو رونق ہر سنسار میں ہے
کل قبر میں اُن کی شفقت سے کُل جلوے حسنِ یار کے ہیں
ہیں عکسِ جمالِ سرور سے یہ رونقیں ساری ہستی میں
ہیں خوب جو منظر دو جگ میں یہ پرتو اسی انوار کے ہیں
دن رات مدینے کے نوری ہر حاجت جس جا ہو پوری
محمود فضائل اطہر کے، جو ڈنکے اس کردار کے ہیں

0
1
4
✦ جامع خلاصہ
یہ نعت دراصل چند بنیادی روحانی حقائق کو بیان کرتی ہے:
درِ مصطفیٰ ﷺ مرکزِ عطا ہے — بندہ خالی آتا ہے، بھر کر جاتا ہے
اللہ تک رسائی اسی نسبت سے ہے — یہ در “زینہ” ہے، منزل تک پہنچنے کا ذریعہ
بخشش اور نجات کا راستہ یہی ہے — گناہوں کی صفائی اسی در سے وابستہ ہے
کائنات کا حسن اسی نور کا عکس ہے — جو کچھ خوبصورت ہے، اسی کا پرتو ہے
دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی اسی تعلق میں ہے
مختصر یہ کہ یہ نعت محبت کو عقیدے میں، اور عقیدے کو معرفت میں تبدیل کرتی ہے—اور یہ پیغام دیتی ہے کہ اصل دولت نسبتِ رسول ﷺ ہے، باقی سب اسی کے سائے ہیں۔

0