| گلہ مجھ کو اگر ہے، تو اسی کا |
| ملال اس کو نہیں ہے بے رخی کا |
| چلن جب کہ نہیں ہے مخلصی کا |
| بھرم رکھا ہے پھر بھی دوستی کا |
| مجھے یوں چھوڑ کر اے جانے والے |
| خلا پورا نہ ہوگا اس کمی کا |
| شراب عشق آنکھوں سے پلادو |
| چڑھا ہے شوق مجھ کو مے کشی کا |
| برائی کی نہ کچھ امید رکھنا |
| بھلا ہی چاہتا ہوں میں سبھی کا |
| بلندی پر پہنچ جاو بھی گر تم |
| لباس اوڑھے ہی رہنا عاجزی کا |
| جبیں ماں چوم کر کہتی ہے میری |
| کبھی مت توڑنا تم دل کسی کا |
| ہے نخوت ذات میں واعظ تمہاری |
| سبق دیتے پھرے ہو عاجزی کا |
| اداسی آ ٹپکتی ہے اسی وقت |
| کوئی موقع جب آتا ہے خوشی کا |
| عبادت سے اگر غافل کرے یہ |
| تو بیڑا غرق ہو پھر شاعری کا |
| خطاوں کی معافی مانگ لینا |
| بھروسہ کچھ نہیں ہے زندگی کا |
| خدا کے فضل سے اک دن سخن ور |
| حوالہ دیں گے میری شاعری کا |
| نہیں ہوگا ہمارے بعد کاظم |
| کوئی شاعر انوکھا اس صدی کا |
| کاظم شیرازی |
معلومات