دُکھ کی گٹھڑی پڑی ہے ڈھونے کے
عمر اک لگ گئی سمونے کو
میں بھنور سے نکل کے آیا ہوں
آ گئے ہو مجھے ڈبونے کو
پھول کھلتے نہیں بہار میں بھی
خار اب رہ گئے بچھونے کو
اب تو پتھرا گئی ہیں آنکھیں بھی
اب بھی کچھ رہ گیا ہے رونے کو؟
سارے دکھ ہی یہاں تھے ہونے کے
اور تم کہہ رہے ہو ہونے کو!
روح پر داغ جو لگے اب تک
عمر باقی لگے گی دھونے کو
دل بچا ہے دھڑک رہا ہے ابھی
توڑ دو آخری کھلونے کو

0
3