| آواز دے رہی ہیں تجھکو صدائیں دل کی |
| آکے سنو کبھی تم تنہائیاں غزل کی |
| لفظوں کی دھار دیکھو دل کا غبار دیکھو |
| حسنِ غزل میں پنہاں شاعر کا پیار دیکھو |
| محسوس ہو رہا ہے کوئی پری ہو جیسے |
| خوشبو بکھیرتی اک گل کی کلی ہو جیسے |
| پنہاں ہے اک غزل میں شام و سحر کی گھڑیاں |
| ہنگامے روز و شب کے رستہ دکھاتی صدیاں |
| صنفِ غزل میں یارو کیا کیا نہیں ہے دیکھو |
| ایسا کسی کا دلکش رتبہ نہیں ہے دیکھو |
| دل کے نگر سے آئی ہر ذرے میں سمائی |
| دیکھو جو چشمِ دل سے دے گا یہی دکھائی |
| کانہا کی بانسری میں رادھا کی راگنی میں |
| گوکل کی ہر گلی میں میرا سی جوگنی میں |
| سیتا کی آن میں ہے لکشمن کے بان میں ہے |
| راون کی جان میں ہے راما کی شان میں ہے |
| ملا کی تان میں ہے پنڈت کے گیان میں ہے |
| سادھو کے دھیان میں ہے گیتا قرآن میں ہے |
| عاشق کے دل کی خوشبو معشوق کا ہے گیسو |
| دیوانگیِ مجنوں لیلیٰ کا بہتا آنسو |
| کوچے میں دلبروں کے گلیوں میں محوشوں کے |
| قاتل سے دشمنوں کے محفل میں دوستوں کے |
| پھیلا ہے اسکا دامن دنیا میں ساری یکسو |
| سر چھڑھ کے بولتا ہے اسکا ہی ہرسو جادو |
| ماں کے دلار میں ہے بابا کی مار میں ہے |
| بہنوں کی الجھنوں میں بھائی کے پیار میں ہے |
| بچے کی ہے تمنا گڑیا کا ہے یہ گہنا |
| دل میں بھی نوجواں کے اسکا ہے کام رہنا |
| سجنا کے تاج میں ہے سجنی کی لاج میں ہے |
| دل پر جو کرتی ہے اس گوری کے راج میں ہے |
| گھونگھٹ کی اوٹ میں ہے دولہے کی کوٹ میں |
| دل کے عمارتوں کی میٹھی سی چوٹ میں ہے |
معلومات