یادِ محبوبِ خدا جس کی بھی عادت ہو گئی
آگ سے پھر با خدا اس کی حفاظت ہو گئی
دل میں جب عشقِ محمد ﷺ کا دیا جلنے لگا
دور اس دل سے یہ دنیا کی نجاست ہو گئی
دل کی مرجھائی کلی پھر شان سے کھلنے لگی
مصطفی خیر الوری کی جب عنایت ہو گئی
سر جھکا دے ان کے در پر عافیت کے واسطے
جھک گیا جو سر اسی کی قدر و قیمت ہو گئی
جس پہ ہو جائے کرم شاہِ مدینہ ﷺ کا کبھی
خلد کی حاصل اسے واللہ ضمانت ہو گئی
آرزو دیدار کی پیدا ہو جس دل میں عتیق
آس یہ دل کے لیے واللہ طہارت ہو گئی

0
2