دوستی اب ختم کرنا چاہتی ہے
خود کو بھی آخر مٹانا چاہتی ہے
اختلافات آ گئے ہیں درمیاں اب
پھر بھی میرا دم ہی بھرنا چاہتی ہے
جیت سکتی ہے وہ آسانی سے لیکن
میرے آگے ہار جانا چاہتی ہے
میں شکستہ ہوں مگر یہ کیا کہ وہ بھی
مجھ سے اک اور طرح الفت چاہتی ہے
فہم سے باہر ہے اس کی یہ ادا کیوں
حد سے آگے بھی گزرنا چاہتی ہے
اپنے ہونٹوں کو مرے ہونٹوں پہ رکھ کر
احتجاجاً کچھ جتانا چاہتی ہے

0
1