| حسیں جانِ عالم یہ محبوبِ یزداں |
| شہے دو سریٰ ہیں زمانے کے سلطاں |
| نہ ٹھہرا کہیں بھی جو ہمسر ہو اُن کا |
| سدا جن کے اوصاف ہیں فخرِ انساں |
| ہوا ذکر جس جا نبی مصطفیٰ کا |
| وہیں جھک گئے سب مراتب کے ایواں |
| اندھیروں نے گھیرے تھے آفاق سارے |
| گراں اب ہیں ان پر تجلیٰ کے باراں |
| ورودِ نبی سے جہاں ضوفشاں ہیں |
| ہوئے ماند جس سے مہر ماہِ تاباں |
| مدینے سے آئے جو وحدت کے ساگر |
| ٹھہرنے لگے پھر زمانے کے طوفاں |
| اے محمود ہستی ہے ممنونِ یزداں |
| دیا جس نے پیارا یہ سلطانِ ذیشاں |
معلومات