حسیں جانِ عالم یہ محبوبِ یزداں
شہے دو سریٰ ہیں زمانے کے سلطاں
نہ ٹھہرا کہیں بھی جو ہمسر ہو اُن کا
سدا جن کے اوصاف ہیں فخرِ انساں
ہوا ذکر جس جا نبی مصطفیٰ کا
وہیں جھک گئے سب مراتب کے ایواں
اندھیروں نے گھیرے تھے آفاق سارے
گراں اب ہیں ان پر تجلیٰ کے باراں
ورودِ نبی سے جہاں ضوفشاں ہیں
ہوئے ماند جس سے مہر ماہِ تاباں
مدینے سے آئے جو وحدت کے ساگر
ٹھہرنے لگے پھر زمانے کے طوفاں
اے محمود ہستی ہے ممنونِ یزداں
دیا جس نے پیارا یہ سلطانِ ذیشاں

1
4
یہ نعتِ شریف سراسر عقیدت، محبت اور نورانیت کا مظہر ہے۔ اس میں اس مبارک ہستی کو جانِ عالم، محبوبِ یزداں اور سلطانِ دو جہاں کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جن کی ذات بے مثال ہے اور جن کے اوصاف انسانیت کے لیے باعثِ فخر ہیں۔

کلام میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے دنیا تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی، مگر آپ کے نور سے ہر طرف روشنی پھیل گئی اور سورج و چاند کی چمک بھی ماند پڑ گئی۔ آپ کی تعلیمات نے زمانے کے طوفانوں کو سکون میں بدل دیا اور بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہِ ہدایت نصیب ہوئی۔

آخر میں شاعر (محمودؔ) اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہے کہ اس نے ہمیں ایسی عظیم اور رحمت والی ہستی عطا فرمائی، جو دونوں جہانوں کے لیے سہارا اور باعثِ نجات ہے۔ 🌹

0