مُرشِد خودی میں میری کمالات کرے ہے
میری خودی میں رہ کے مجھے بات کرے ہے
تعلیمِ خود آگاہی کو چھپ کر مرے اندر
مجھ سے وہ ہر اک آن سُوالات کرے ہے
مرشد خودی میں کیوں ہے، میں جان گیا ہوں
اعمالِ حسن کی وہ ہدایات کرے ہے
کامل ہے مریدوں میں ہر اک شخص وہ بے شک
مرشد سے خودی میں جو ملاقات کرے ہے
مرشد ہیں مرے نفس کی پہچان میں جو کہ
شیطان کے حربوں پہ فتوحات کرے ہے
ہستی پہ مری چھا کے مجھے کُل ہے بنایا
دو ذاتوں کے مالک کو وہ اک ذات کرے ہے
جب بولوں تو، تو بولنا، کچھ خود سے نہ کہنا
مرشد یہی تکرار تو دن رات کرے ہے
دکھلاتے ہیں اشیا کی حقیقت مرے مرشد
عرفان کی خود پر مرے برسات کرے ہے
مرشد کی عطا سے تو ہر اک چیز ملے ہے
ہر علم و فضیلت کی وہ خیرات کرے ہے
بتلا ہی نہیں سکتا مرید ان کی عطا کو
مرشد خودی میں رہ کے کرامات کرے ہے
لفظوں میں بیاں ہوں گے یہ وصفِ خودی کیسے
آ آ کے قلم میں جو بیانات کرے ہے
مرشد ہیں مرے صوفی خسرو پیر احمد
میری خودی کو خود کے عَلامات کرے ہے
گویا ہوں ذکؔی تجھ سے، مگر خود میں یہ مرشد
یک جا ابھی بھی ارض و سماوات کرے ہے

0
2