| شوقِ منزل ہے تو پھر آبلہ پا اور سہی |
| عشق میں جور و جفا، مہر و وفا اور سہی |
| گر وہ پندارِ خدائی میں ہی خوش ہیں تو کیا |
| ہم بھی بندے ہیں، کوئی ان کا خدا اور سہی |
| تیری محفل میں میسر جو نہیں دادِ سخن |
| شورِ محشر ہے پسِ عرضِ نوا اور سہی |
| ہو مبارک تجھے گلشن کی میسر جو فضا |
| مجھ کو صحرا کی کڑی دھوپ، ہوا اور سہی |
| قتل ہونا ہے مقدر تو رُکیں کیوں عادلؔ |
| خوں بہانے کے لیے دستِ قضا اور سہی |
معلومات