شوقِ منزل ہے تو پھر آبلہ پا اور سہی
عشق میں جور و جفا، مہر و وفا اور سہی
گر وہ پندارِ خدائی میں ہی خوش ہیں تو کیا
ہم بھی بندے ہیں، کوئی ان کا خدا اور سہی
تیری محفل میں میسر جو نہیں دادِ سخن
شورِ محشر ہے پسِ عرضِ نوا اور سہی
ہو مبارک تجھے گلشن کی میسر جو فضا
مجھ کو صحرا کی کڑی دھوپ، ہوا اور سہی
قتل ہونا ہے مقدر تو رُکیں کیوں عادلؔ
خوں بہانے کے لیے دستِ قضا اور سہی

17