| حالِ دل کی کتاب بنتا ہے |
| جب کوئی ہم رکاب بنتا ہے |
| جس کی سیرت اترتی ہے دل میں |
| پھر وہی انتخاب بنتا ہے |
| وہ شب و روز خواب میں آکر |
| میری الفت کا باب بنتا ہے |
| اسکی یادوں میں منہمک ہو کر |
| دل یہ خانہ خراب بنتا ہے |
| خوبصورت ہے وہ بہت لیکن |
| حسن اک دن تُراب بنتا ہے |
| عشق میں ملتا وفورِ غم |
| اس سے اب اجتناب بنتا ہے |
| زیست گر وصل سے رہے محروم |
| تو ہر اک پل عذاب بنتا ہے |
| تو نے وعدے کیے ہیں الفت کے |
| میرا تجھ سے حساب بنتا ہے |
| دیدِ رہبر کبھی جو ہو جائے |
| رخ مرا ماہتاب بنتا ہے |
معلومات