خرید لایا تھا بندوق اُس ہی ہفتے میں
اچھالی جب کے تھی عزت کسی نے ہنستے میں
نشانہ باندھ کے برسائیں گولیاں جس پر
ہاں خود کا بھائی بھی شامل تھا اُس ہی دستے میں
اڑایا خود کو تھا جس نے پہن کے بم بستہ
قلم کتاب بھی رکھی تھی اس نے بستے میں
تمام عمر جسے کہتا تھا وہ دھرتی ماں
اُسی کو بیچ کے آیا ہے آج سستے میں
جو مال و زر کے نشے میں تھا آسمانوں پر
نشے میں دھت تھا پڑا آج وہ بھی رستے میں

0
5