| اسیر کر لیا تُو نے یہ دل اداؤں سے |
| بچا کے جس کو تھا رکھّا سبھی بلاؤں سے |
| اشارہ کر کے تو دیکھیں یہ نیم باز آنکھیں |
| ستارے توڑ کے لاؤں گا کہکشاؤں سے |
| یہ عشق صرف تمنّا کا نام کب نکلا |
| وجود ڈھلنے لگا خامشی کی چھاؤں سے |
| میں اپنی ذات کے صحرا میں جب بھی اترا ہوں |
| صدا تری ہی سنی ہے وہاں ہواؤں سے |
| جو سچ تھا اس کو زمانے نے دفن کر ڈالا |
| مگر وہ پھر بھی ابھرتا رہا صداؤں سے |
| کمالِ عشق یہ ٹھہرا کہ خود کو کھو کر بھی |
| نوا میں جوڑتا رہتا ہوں بےنواؤں سے |
| وہ ایک لمس کہ جس میں سکونِ جاں بھی ملا |
| رکھا ہے یاد ہمیشہ اسے دعاؤں سے |
| کبھی تو کھول مری روح کا دریچہ کوئی |
| ہوا بھی تھک گئی ہے بند ان قباؤں سے |
| تِری نگاہ نے ہی حوصلہ دیا مجھ کو |
| میں آشنا تھا کہاں غیر کی جفاؤں سے |
| ہے عشق امتحاں طارِق تو واسطہ جو پڑا |
| یہ دل ڈرا نہیں خود ساختہ خداؤں سے |
معلومات