| جس نے مجھے بیکار میں بے کل کیا ہے شکریہ |
| دل کو عجب بے کیفیوں سے شل کیا ہے شکریہ |
| کوئی مجھے صورت نظر آتی تو میں بھی بُھولتا |
| پھر تم نے تازہ زخم کو پل پل کیا ہے شکریہ |
| کیسی انا ہم تم ہمیشہ ایک تھے، سو ایک ہیں |
| اچھا ہؤا دستار کا آنچل کیا ہے شکریہ |
| میں اور مرا بھائی بہت عرصہ ہؤا ناراض تھے |
| تم نے ہمارا مسئلہ جو حل کیا ہے شکریہ |
| آنکھیں مری بنجر زمینوں کی طرح ویران تھیں |
| احساں کیا دلدار نے جل تھل کیا ہے شکریہ |
| مالی مشقت کرتا آیا ہے بڑے ہی شوق سے |
| حاصل ابھی اشجار سے یہ پھل کیا ہے شکریہ |
| ہڈی مری سرمہ بنی تو ماس کس کھاتے میں تھا |
| ساجن! مری چمڑی کو بھی چھاگل کیا ہے شکریہ |
| ہوتے اگر ہم ہوش میں ڈستا ہمیں ہر پل خرد |
| جس نے اڑا کے ہوش یوں پاگل کیا ہے شکریہ |
| اپنی اداسی میں کہاں لے کر چلا جاتا رشیدؔ |
| میرے چہار اطراف کو جنگل کیا ہے شکریہ |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۰۴ مئی، ۲۰۲۶ |
معلومات