وہ کیسا حسیں دور تھا
جوانی کا جب زور تھا
شَگُوفوں کے باغیچے میں
اُمنگوں کا ہی شور تھا
محبت کی نَم وادی کا
میں اِک ناچتا مور تھا
نہ چِنتا نہ دل میں تھا ڈر
میں اِک ایسا شہزور تھا
عمر میری جو جی گیا
وہ تو شخص ہی اور تھا
اُسی پل میں بجھ سا گیا
کہ جب چھوڑا لاہور تھا

0
4