وہ کیسا حسیں دور تھا
جوانی کا جب زور تھا
شَگُوفوں بھرے باغ میں
اُمنگوں کا ہی شور تھا
محبت کی نَم وادی میں
میں اِک ناچتا مور تھا
نہ پروا نہ ہی کوئی ڈر
میں اِک ایسا شہ زور تھا
عمر میری جو جی گیا
وہ تو شخص ہی اور تھا
اُسی پل میں مر سا گیا
کہ جب چھوڑا لاہور تھا

0
20