دل میں مدینہ جانے کی چاہت ہے ہو چلی
شہرِ رسولؐ کی بھی محبت ہے ہو چلی
من کی مرادیں کر دے خدایا تُو پوری سب
شامل ہو فضل تیرا جو الفت ہے ہو چلی
خلوت میں اور ہے وہی جلوت میں تذکرہ
جزبوں میں میرے کیسی یہ عظمت ہے ہو چلی
نذرانہ ہو درودؐ کا روضہ پہ بھی ادا
کر لوں سلام پیش، عقیدت ہے ہو چلی
چمکے نصیبہ اپنا جو ناصؔر یہاں کبھی
پانے سے بھی ازن، جو مسرت ہے ہو چلی

0
32