| دلِ بے تاب کو اک خوابِ گراں چاہیے ہے |
| چشم و ابرو کی فقط ایک کماں چاہیے ہے |
| شبِ ہجراں میں سراپے کا تصوّر ایسا |
| دشت میں جیسے کوئی ٹھنڈا کنواں چاہیے ہے |
| تیری آواز نے ہولے سے کہا کان میں یوں |
| عشق کو ذکر نہیں قلبِ تپاں چاہیے ہے |
| ہم نے مانا ہے فنا ہونا محبت کا نشاں |
| پھر بھی اس دل کو ترا عہدِ اماں چاہیے ہے |
| تیری قربت میں عجب کیفِ مسلسل ہے مگر |
| دل کو ہر لحظہ نیا ذوقِ بیاں چاہیے ہے |
| میں ترے حسن کو کس نام سے تعبیر کروں |
| حسن کو حسنِ ازل ہی کا گماں چاہیے ہے |
| تیرے دیدار کی خواہش بھی عجب شے نکلی |
| آنکھ کو وصل دلِ زار کو جاں چاہیے ہے |
| عشق وہ آگ ہے جو خاک بھی کر دے گلزار |
| خلد میں اس کو کہاں ایک مکاں چاہیے ہے |
| ہم نے دنیا سے بہت مانگ لیا اب تو فقط |
| تیرا اک حرفِ محبت دمِ آں چاہیے ہے |
| طارِق اس راہ میں منزل کا تقاضا ہے یہی |
| عشق ہو درد ہو اور تیرا نشاں چاہیے ہے |
معلومات