| کسی کے دل میں اُترنا کمال ہوتا ہے |
| اُتر کے اس میں ٹھہرنا کمال ہوتا ہے |
| سفر میں یوں تو ملیں گے ہزار لوگ مگر |
| کسی کا جُڑ کے بکھرنا کمال ہوتا ہے |
| جو آبلے کی طرح پھوٹ کر کبھی نہ بہے |
| وہی تو درد کا جھرنا کمال ہوتا ہے |
| بلند ہو کے بھی جھک کر ملے تو کیا کہنے |
| ہرا شجر کا بھی رہنا کمال ہوتا ہے |
| کسی کے عیب پہ پردہ پڑا اگر رکھّے |
| وُہی نظر کا سنورنا کمال ہوتا ہے |
| جو اختلاف میں بھی احترام رکھتی ہو |
| اسی زباں سے سدھرنا کمال ہوتا ہے |
| چراغ ایک ہی کافی ہے تیرگی کے لیے |
| مگر ہوا سے نہ ڈرنا کمال ہوتا ہے |
| غرورِ علم ہے سر چشمہ صد جہالت کا |
| نگوں ادب سے بھی رہنا کمال ہوتا ہے |
| سنا ہے ہوتا ہے اچھا کسی کے کام آنا |
| پر اس میں حد سے گزرنا کمال ہوتا ہے |
| سخن میں رکھنا دعا کی حرارتیں طارِق |
| اثر کا دل میں اترنا کمال ہوتا ہے |
معلومات