| اوج پر میرا ذہنِ رسا دیکھ لے |
| تیری یادوں میں شاعر بنا ، دیکھ لے |
| بے وفائی کی تہمت لگانے سے قبل |
| جھانک کر میرے دل میں ذرا دیکھ لے |
| مجھ کو جانِ جگر بے وفا تو نہ کہہ |
| اک دفعہ پہلے خود آئنہ دیکھ لے |
| ڈس رہی ہیں مجھے شب کی تنہائیاں |
| سہہ رہا ہوں میں جور و جفا، دیکھ لے |
| تیری چاہت میں دل غم کا مسکن بنا |
| دیکھ لے ، دیکھ لے ، دل مرا دیکھ لے |
| تو سرِ بزم یوں مجھ کو رسوا نہ کر |
| جو بھی کہہ تو مگر دائرہ دیکھ لے |
| بزمِ رہبر میں اے دل تو خاموش رہ |
| یوں بلند اپنا تو مرتبہ ، دیکھ لے |
معلومات