تجھ پہ گزرے نہ کوئی شام قیامت کی طرح
تیرے آنگن میں رہے نور محبت کی طرح
تیرے ہونٹوں پہ رہے شوخئ مسکان سدا
کوئی آئے نہ بلا سر پہ اذیت کی طرح
کس طرح ذکر سے محروم کروں میں خود کو
تو مری روح میں شامل ہے عبادت کی طرح
نیک نامی پہ تری آ نہ سکے داغ کوئی
پاک و پاکیزہ ہو تم مریمِ عصمت کی طرح
جب سے دیکھا ہے تمہیں دل کو مرے چین نہیں
ایک فریاد ہے ہونٹوں پہ شکایت کی طرح
کیا بتاؤں کہ تمہیں پیار کے ہر دھاگے میں
میں نے مانگا ہے اٹھائی ہوئی منت کی طرح
زخم بھرتا ہے مرا اسمِ رقیہ ساگر
میرے زخموں پہ ہے یہ نام شفاعت کی طرح

0
6