| شراب نے شباب نے خراب کر دیا مجھے |
| کہ عادتِ خراب نے خراب کر دیا مجھے |
| خرد نے یہ کہا تو تھا ہیں عادتیں بری تری |
| مرے ہی انتخاب نے خراب کر دیا مجھے |
| ترا اکڑ کے بولنا بلا سبب ہی ڈانٹنا |
| کہ لہجۂ خراب نے خراب کر دیا مجھے |
| امیر سے معانقہ غریب سے مواخذہ |
| ترے اس احتساب نے خراب کر دیا مجھے |
| ۔ |
| میں سیدھا سادھا شخص تھا مگر مجھے یہ کیا ہوا |
| گنہ کے ارتکاب نے خراب کر دیا مجھے |
| ۔ |
| میں اپنی حد میں ہی رہا ، ترے لیے میں "تو" رہا |
| یہ آپ اور جناب نے خراب کر دیا مجھے |
معلومات