شراب نے شباب نے خراب کر دیا مجھے
کہ عادتِ خراب نے خراب کر دیا مجھے
خرد نے یہ کہا تو تھا ہیں عادتیں بری تری
مرے ہی انتخاب نے خراب کر دیا مجھے
ترا اکڑ کے بولنا بلا سبب ہی ڈانٹنا
کہ لہجۂ خراب نے خراب کر دیا مجھے
امیر سے معانقہ غریب سے مواخذہ
ترے اس احتساب نے خراب کر دیا مجھے
۔
میں سیدھا سادھا شخص تھا مگر مجھے یہ کیا ہوا
گنہ کے ارتکاب نے خراب کر دیا مجھے
۔
میں اپنی حد میں ہی رہا ، ترے لیے میں "تو" رہا
یہ آپ اور جناب نے خراب کر دیا مجھے

5