نورِ صوفی سے چمک اٹھے ہیں احمد کے چراغ
پھول ایسے ہیں کھلے کہ دل ہوئے ہیں باغ باغ
با خدا با مصطفیٰ کہئے ادب سے اے جناب
کھل رہے ہیں دل پہ ان سے کون ہستی کے سراغ

0
1