| ختم ہم پر کبھی ستم نہ ہوئے |
| تیری الفت سے ہم بہم نہ ہوئے |
| تیرے قدموں کو چوم لیتے پر |
| تیرے کوچے میں ہم گدانہ ہوئے |
| وصل گزرا تو یہ ہوا معلوم |
| درد اتنے بڑھے کہ کم نہ ہوئے |
| چلتے چلتے اجل کو پا لیتے |
| زندگی ہم پہ یوں کرم نہ ہوئے |
| ہم بھی دیوانے تھے مگر ارقم |
| ان کے کوچے میں محترم نہ ہوئے |
معلومات