ختم ہم پر کبھی ستم نہ ہوئے
تیری الفت سے ہم بہم نہ ہوئے
تیرے قدموں کو چوم لیتے پر
تیرے کوچے میں ہم گدانہ ہوئے
وصل گزرا تو یہ ہوا معلوم
درد اتنے بڑھے کہ کم نہ ہوئے
چلتے چلتے اجل کو پا لیتے
زندگی ہم پہ یوں کرم نہ ہوئے
ہم بھی دیوانے تھے مگر ارقم
ان کے کوچے میں محترم نہ ہوئے

0
39