| رب کی عطائے خاص ہے الفت حبیب کی |
| آلِ نبی کی چاہتیں قربت حبیب کی |
| نغماتِ دل نشین سے زینت فضا میں ہو |
| مولا ثنا ہو آپ کی مدحت رسول کی |
| آتے سدا درود ہیں آقا پہ ہر گھڑی |
| ہے پنہاں جس میں خیر سے راحت حبیب کی |
| دیکھوں سنہری جالیاں روضہ رسول پر |
| مولا عطا مجھے بھی ہو خدمت حبیب کی |
| کارِ زیاں بھی خلق کے وہ در گزر کریں |
| خوشیوں سے بھر دیں جھولیاں عادت حبیب کی |
| راضی رضا میں تیری جو عاصی رہے کریم |
| زیور ملے سدا اسے چاہت حبیب کی |
| تاکہ میں مصطفیٰ کو یہ چہرہ دکھا سکوں |
| میں عاجزی سے مانگوں شفاعت حبیب کی |
معلومات