| راز سے پردہ اٹھا بیٹھا ہوں |
| درد دل سب کو سنا بیٹھا ہوں |
| گل کھلانے کی تھی خواہش دل میں |
| پیڑ کانٹوں کے لگا بیٹھا ہوں |
| میں تجھے بھولنے کی کوشش میں |
| اپنا ہی درد بڑھا بیٹھا ہوں |
| یاد میں تیری یہ گھٹ کر جینا |
| سکھ کا ہر رنگ گنوا بیٹھا ہوں |
| دشت و صحرا سے محبت کر کے |
| عشق سے ہاتھ اٹھا بیٹھا ہوں |
| زندگی سے نہ گِلہ ہے کوئی |
| جیسے تیسے میں نبھا بیٹھا ہوں |
| وہ جہاں بیٹھیں ہے مرضی ان کی |
| میں مری حد میں ہی آ بیٹھا ہوں |
| یاد کے جالوں سے اے میرے صنم |
| اپنے کمرے کو سجا بیٹھا ہوں |
| بارشوں سے مجھے ڈر لگتا ہے |
| کچے گھر کو میں بنا بیٹھا ہوں |
| اب لُٹانے کو نہیں کچھ باقی |
| زندگی اپنی لٹا بیٹھا ہوں |
| شان اپنی نہ سنا اے ساگر |
| عشق دھوکہ ہے میں کھا بیٹھا ہوں |
معلومات