عشق میں جب ہارنے سے ڈر گئے
اور ہم بے موت ایسے مر گئے
جیتنا تھا، ہار جانا عشق میں
جانتے تھے پھر بھی گڑبڑ کر گئے
عاشقی کا بے خودی اعجاز ہے
ساتھ دل کے ذات کے اندر گئے
بے خودی میں لا پتہ کا ہے پتا
بے خودی میں خود سے ہم اوپر گئے
عالمِ کُبریٰ بہت گھومے ذکی
"تھک گئے تھے لوٹ کر پھر گھر گئے"

0
2