| محبتوں میں جو پتھر نگار ہوتا ہے |
| کب اس کو کانچ کی مورت سے پیار ہوتا ہے |
| یہ آنکھ صبح تلک بھی کیا سنواروں میں |
| نظر میں گردشِ لیل و نہار ہوتا ہے |
| نمازِ سحر اذانوں کے گونجتے سر میں |
| سماعتوں کو مری اک خمار ہوتا ہے |
| ہمیں تو آتشِ الفت بھی سرد لگتی ہے |
| عجب ہے طورِ وفا دل بہار ہوتا ہے |
| اسی کو آنکھ میں رکھتا ہے جو حسیں ہو بہت |
| یہ دل بھی قاتلِ حسنِ شعار ہوتا ہے |
| یہی تو عالمِ انساں کی بت پرستی ہے |
| خدا سے بڑھ کے جہاں اعتبار ہوتا ہے |
| کسی کی بھیگتی آنکھوں میں جھانک کر دیکھو |
| ہجومِ اشک میں کچھ انتظار ہوتا ہے |
| یوں تو ہیں دوست بھی دشمن بھی ہیں کئی ساگر |
| یہ دیکھیں کون مرا جاں نثار ہوتا ہے |
معلومات