یہاں دہشت ہے، اداسی ہے، پریشانی ہے
یہ ہے کشمیر، یہاں غم کی فراوانی ہے
میرے دریاؤں کو جب بند کیا جانے لگا
بس اسی دن سے مرے خون میں طغیانی ہے
یہ مرے پانی جو دنیا کے لیے سونا بنے
یہ مرے خون کی ارزانی جو ارزانی ہے
میرے رکھوالے مرے بھائی مرے خونی بنے
ان سے اب کوئی توقع بڑی نادانی ہے
اے خدا یہ ہے سوا لاکھ شہیدوں کا لہو
اے خدا یہ مرے کشمیر کی قربانی ہے

0
2